Description
احمد جاوید صاحب ہمارےوقت کا ایک نادر علمی وجود اور یگانہ روزگار شخصیت ہیں۔ اپنے موضوعات کے تنوع،فکر کی گہرائی و گیرائی، ندرتِ بیان، اظہارکے اسلوب، ذہن کی خُلّاقی، طبعیت کی درویشی اور بے مثل اخلاص کیشی جیسے عوامل کے معجزانہ امتزاج نے انہیں یہ مقام عطا کیا ہے۔ جاوید صاحب کی شخصیت، تیزی سے گم ہوتی ہماری فکر و تہذیب کی ایک کڑی ہے جو اپنے عصر سے ہم آہنگ اور روایت میں گڑی ہے۔
جاوید صاحب کئی برسوں سے مجالس اور سماجی میڈیا کے ذریعہ اپنی فکر کا چراغ جلائے ہوئے ہیں۔ یہ اقبال کے نالہ نیم شب کا نیازہے یا سلیم احمد کے چراغ نیم شب کا اعجاز، مگر تہذیب و روایت کے عشاق کے لئےشاید امید کی واحد کرن۔ وہ ہماری فکری بازیافت کی توانا اور وقیع آواز ہیں ۔ ایسی درد مند شخصیت جو بنا کسی معذرت خواہی اور عذر خواہی کے نشتر زن ہوتی ہے اور نعرہ زن بھی، نوحہ خواں ہوتی ہے اور رجز کناں بھی ۔ اپنی اقدار، روایت اور تہذیب سے محبت کرنے والے اب تو خال خال بھی نظر نہیں آتے۔
گزشتگانِ محبت کے خواب لکھنے کو
ابھی تو میں ہوں مگر، بعد ازاں کوئی نہیں ہے
———-
احمد جاوید صاحب کا علمی کام بوجوہ، تحریری کم اورجدید صوتی و بصری ذرائع ابلاغ کے توسط سے زیادہ رہا۔ حرف مطبوعہ کی وقعت اور اہمیت کے پیش نظر کتابی شکل میں اس مواد کی کمی نہ صرف روایتی قاری کا مطالبہ رہی بلکہ اہل علم کا تقاضہ بھی۔ زیر نظر کتاب کی تدوین و ترتیب کے بعد جاوید صاحب کی نظر ثانی اور مشوروں سے ایک ایسا گراں مایہ علمی مواد فراہم ہوگیا ہے جو بجا طورپہ وقت کی ضرورت ہے۔
یقیناََ “تہذیب کی قرات” کے ذریعہ احمد جاوید صاحب کے افکار و تجزیات کا، ناظرین و سامعین سے نکل کر قارئین تک پہنچنے کا عمل طلبہ، اساتذہ اور کتاب سے محبت کرنے والوں کے لئے خوش کن ہوگا۔
باب: 1 حیرت کے فاصلے 13
باب: 2 کھوئے ہُوؤں کی جُستجو 25
سلیم احمد: مربی و معلم 25
محمد حسن عسکری اور سلیم احمد کا تعلق 29
محمد حسن عسکری کی ادبی خدمات و تنقیدی مقام 30
ہماری تہذیب اور سلیم احمد کی شاعری اور تنقید 30
مولانا ایوب دہلوی ؒ کی شخصیت، افکار اور متکلمانہ عظمت31
قمر جمیل کی شخصیت، شاعرانہ انفرادیت، نثری نظم پہ اثرات31
رئیس فروغ کی شخصیت اور اوصاف31
محب عارفی: شخصیت اور شاعری31
محمد سلیم الرحمٰن: شخصیت اور شاعری54
ڈاکٹر خورشید رضوی : شخصیت اور شاعری58
ڈاکٹر ظفر اسحاق انصاری 59اقبال احمد62
مشکل اسلوبِ گفتگو64
باب: 3 تصوف و عرفان 65
تصوف اور فلسفہ: امتزاج یا تصادم؟65
سہ گانہ مراتب ِ بندگی66تصوف کو پرکھنے کا معیار70
تزکیہ و تربیت میں مرشد کی حیثیت72اولیاء کے معصوم و محفوظ ہونے کا مسئلہ73
تصوف کے اداراتی و ظاہری ڈھانچوں کی افادیت اور موجودہ انحطاط73
سلاسلِ تصوف کا تقابلی مطالعہ77سلاسل کی کچھ خامیاں79
حقیقت، عرفان اور تقدیر و تدبیر81تصوف اور نفسیات82
تصوف کے علوم یا معارف؟ 83
باب: 4 ایمان اور عقلِ جدید 85
ہم اللہ کو کیوں مانتے ہیں؟85
ایمان باللہ کے کلامی اور فلسفیانہ دلائل86
وجودِباری تعالیٰ پہ ایک اعتراض 87
ہماری ایک ذمہ داری87ہم اللہ کو اس لیے مانتے ہیں:88
خلاصہ کلام 92آخری دلیل : خود دلیل بن جاؤ 92
انسانی فطرت کے مسلمات بھی اصول دین ہیں 97
ایمان باللہ کے دو فطری نتائج 100
ایک ہی حال ہے جس کے ہیں نام دو 101
اللہ سے تعلق کا مطلوبہ حال 101
جمالیات کیا ہے؟102جمالیات اور جمالیاتی شعور کی مزید وضاحت104
ہمارا تصورِ انسان اور سماجی علوم 107
اہلِ علم کی ذمہ داری108ہمارا تصورِ علم108
سماجی علوم سے کیا مراد ہے109قرآن پہ ایمان کا ایک فطری تقاضا110
موجودہ علمی صورتِ حال اور مابعد الطبیعیات111
سوشل سائنسز سے دینی شعور کا اخراج112سائنسدانوں اور فلاسفہ کی فکری خطا113
سائنس، اخلاقیات اور مذہب113جدید تعلیمی اداروں کا ماحول اور دین داری114
جدید تعلیم یافتہ نوجوانوں کے رول ماڈل:میرے دوست احمد حسنؒ114
غیر سامی تہذیبوں میں ہدایت کا نظام115قرآن اور سائنس 116
عقل اور وحی کا باہمی تعلق117وحی اور انسانی معاشرت کی تشکیل117
دین اور دنیاوی علوم کا امتزاج118ختمِ نبوت کی حکمت119
قرآن کا آفاقی پیغام اور شان نزول120قرآن اور دیگر مذاہب کی کتابوں کا فرق121
دینی مزاج کی تشکیل میں ادب کا کردار 122تصور اخلاق123
اخلاق کی روایتی بنیاد125اچھے اخلاق کے تین روایتی اصول 128
خیر” کیا ہے؟130اخلاق، معارف اور شریعت131
تصور اخلاق کی تاریخ131ذوق کی اہمیت، عاشق اور محبوب و معبود132
باب: 5 تہذیب وثقافت 136
امتیاز اور باہمی تعلق136
پاکستانی ثقافت کی تاریخی جڑیں: موہنجوداڑو سے مسلم کلچر تک137
مذہب، ثقافت اور جمالیات137
تہذیبوں کے تصادم کا فکری تناظر: علامہ اقبال، مولانا مودودی اور ہنٹنگٹن138
قوم کی تشکیل کے اجزائے ترکیبی139اسلامی اور مغربی تہذیب: تصادم یا توافق؟139
مزاحمت یا دہشت گردی؟142تقویٰ اور علم، انسانی فضیلت کی حقیقی بنیادیں143
مغربی فکرو تہذیب سے اصولی اختلاف 144مغرب سے درپیش چیلنجز145
تصورِ خدا کو انسانی شعور کےلیے اجنبی بنانا147
بگ بینگ148نظریہ ارتقاء148
دینی تعلیم و تعلیم کے منتظمین سے گزار ش 150ہماری سب سے بڑی ناکامی150
اخلاقی چیلنجز 152 انتظامی چیلنجز152
باب: 6 مغرب: فکری اساسیات سے مابعد جدیدیت تک 154
جدید مغربی تہذیب کی فکری بنیادیں154تشکیک اور جدید مغرب کی ذہنی ساخت157
مغرب کے غلبے کے اسباب159فلسفہ پڑھنے کا درست زاویہ159
مسلمان اور جدید سیکولر و لبرل اقدار161مابعد جدیدیت: نظریاتی پس منظر اور مقاصد 163
تھیوری کے مباحث182تھیوری کی تعریف اور ضرورت182
تھیوری اور انسانی شعور183موجودہ مذہبی ذہن اور تھیورائزیشن183
باب: 7 تھیوری کی ماہیت 183
تھیوری اور شعور کی اقسام184
مذہبی روایت میں نظریہ سازی کا دورِ عروج اور موجودہ صورتِ حال185
تھیوری: اصل میں واحد اور مظاہر میں ، متنوع185
میٹا تھیوری، سب تھیوری اور ثبات فی الحوادث186
تھیوری کی اقسام اور مختلف علوم میں ان کا ظہور187
اخلاقی شعور اور مذہب188مذہب اور تھیورائزیشن190
صوفیانہ ڈسکورس اور Symbolization کی قوت190
تھیوری کی ماہیت 191مذہب بطور مکمل تھیوری192
مذہبی ڈسکورس میں وجود کا سوال193علم اور حقیقت کا تعلق193
تھیوری اور خلقی مسلمات195فلسفہ اور مذہبی شعور کا باہمی تعلق196
باب: 8 دین، احیائے دین اور مذہبی، اصلاحی و سیاسی تحریکیں 199
مسلم نشاۃ ثانیہ: مغرب اور اسلام کے تناظر میں199
سیاسی تعبیرات اور خلافتِ راشدہ کا تصور201سائنسی و تہذیبی ترقی بطور نشاۃ ثانیہ202
مسلم عروج کے حقیقی اسباب اور تاریخ کے قوانین202احیائے امت کی بنیادی شرط203
جدید مسلم ذہن اور تاریخی و تہذیبی شعور کا فقدان203مسلم نشاۃ ثانیہ کے لیے چند ناگزیر امور204
موجودہ عالمی نظام، استعمار اور گلوبلائزیشن کے چیلنجز205دین اور دنیاوی زندگی کی مطابقت205مسلم نشاۃ ثانیہ کیسےممکن ہے؟206
مسلم نشاۃ ثانیہ: صدرِ اوّل کی بازیابی یا نئے انسان کی تشکیل؟207
اجتہاد کی ضرورت، چند غلط فہمیاں 208احیائے دین کا حقیقی راستہ: باطنی انقلاب209
اجتہاد کی عملی صورت210اسلامی بینکاری 211
موجودہ مسلم معاشرت212پرانی اور موجودہ مسلم معاشرت 214
دینی اخلاق اور سیکولر اخلاق215
دین اسلام کی فقہی تعبیرات اور اس کا اخلاقی و روحانی جوہر216
علما کی ذمہ داریاں216ہمارے زوال کا حقیقی ذمہ دار کون؟217
ظواہر پرستی اور دینی ترجیحات کی مسخ شدہ صورت217
علماء کے ہاں مختلف فیہ فروعی مسائل کی الجھن کیوں218
اخلاقیات کی آفاقیت اور مذہب کا کردار219اہل کمال کہاں گئے؟221
وحدت امت کا تصور اور اسکی ممکنہ عملی صورت222تصورِ جہاں یا World View ورلڈ ویو223
قوموں کے عروج وزوال کا تقدیری قانون223نفاذ شریعت کیوں، کیا اور کیسے؟225
رسول اللہ ﷺ کا مزاجِ اقدس اور نفاذِ دین228انتہا پسندی اور نفاذِ شریعت میں فرق228
جمہوریت اور نفاذ دین: امکانات و خطرات229تبدیلی کے ماڈلز اور ان کی ناکامی229دین اور سیاسی تحریکیں: ایک آرزو231گھٹن، شدت پسندی اور جذبات کا بحران232
عوام کا کردار اور مسیحا کا انتظار232اسلامی جماعتوں کی کامیابی کی ممکنہ صورتیں234اسلامی تحریکوں کی جدوجہد235تحریکوں کی ناکامی کی وجوہات235
باب: 9 مابعد الانسان دور (Post-Human Era) 238
میری نظر میں سب سے بڑا خطرہ : ڈی ہیومنایشن 238
تاریخ اور عصر حاضر کے چیلنجز 239اپنے تصورِ انسان کو زندہ وشاداب ر کھیں 240
تہذیب اور اس کی بقا241ایمان اور اس کے تعطل کی نشانیاں242
مسلم اجتماعیت یہ ہے 243شعور کو مؤمن بناؤ 244
تعقل 244تخیل 245
تدبر 245باطن سے خالی وجود، تعلق اور احساس246
باب: 10 اقبالیات 249
ہندوستانی مسلم تہذیب میں اقبال کی مرکزیت اور اس کی وجوہات249
اقبال کا فکری نظام اور عصری مطابقت250
شاعری اور خطبات : تصادم یا تسلسل251
علی عباس جلال پوری کے اعتراضات کا تنقیدی جائزہ253
باب: 11 ادب اور فنون لطیفہ 255
لفظ سے دوری اور جمالیاتی شعور کی سطحیت255مطالعہ کا ذوق256
اردو ادب کا احیاء کیسے ممکن ہے؟257مغربی تصورِ انسان اور تخلیقی فنون کا مستقبل258
ادب برائے ادب، یا ادب برائے مقصدیت 259
متن خوانی (Text Reading) کے قدیم و جدید نظریات260
لفظ اور زبان266معنی و مفہوم:268
منشائے متکلم268ادب کی موت271
اردو ادب پر مغربی تنقید کےاثرات273شاعری کیا ہے؟273
شاعری پڑھنے کے اصول و آداب 275لفظ کی جمالیاتی جہات276
بڑا ادب اور بڑا ادیب277میر و غالبؔ 278
امجد اسلام امجد کی شاعری289جون ایلیاء کی شاعری295
ناکام شعر فہمی کا علاج301شاعری کا سچ اور فلسفے کا سچ303
فکری اختلاف اور رواداری: ماضی کی سنہری یادیں305
ناول نگاری اور اہم ناول نگار307ناول پڑھنے کی ضرورت و اہمیت307
بڑے ناول کے اوصاف308شاعری اور ناول310
تجدید آدمیت اور تخلیقی فنون310چند پسندیدہ اردو ناول نگار311
ڈائجسٹ ادب اور مقبول ناول312مغربی ادب، ناول اور فلم کا تعلق313
پسندیدہ موسیقی314معاصر ادبی منظرنامہ314
باب: 12 مختلف نظام ہائے تعلیم و تربیت 318
نظامِ تعلیم و تربیت اور موجودہ فساد318دورِ جدید کے پیدا کردہ چیلنجز318
علم کی حقیقت اور مقصد یت319پاکستان میں مختلف تعلیمی نظام320
تصورِ علم321جدید دور میں انسان کا تصرف اور مذہبی موقف321
مذہبی اصطلاحات اورجدید علمی تناظرات322ایمان اور علم کا تعلق323
علم کی تشکیل میں تصور و مقصد کی اہمیت323سائنسی و سماجی علوم سے محرومی324
مسلمانوں کی فکری و تہذیبی زبوں حالی326جدیدیت پرستوں کی حالتِ زار328
نوجوانوں سے توقعات330اصولِ علم، اصولِ تہذیب اور اصولِ زندگی331
قرآن اور سائنسی تھیوریز331والدین اور نظامِ تعلق کی بنیاد332
بابرکت اجتماعیت کی تعریف333مغرب کی تنظیمی قوت اور ہماری کمزوری333
شرفِ انسانیت334تہذیب اور تصورِ انسان334
تاریخی شعور کی اہمیت334اسلامک بینکاری پہ تبصرہ335
باب: 13 ٹیکنالوجی اور میڈیا 337
گلوبل ولیج یا گلوبل جیل؟337انسان سے مشینی وجود تک338
میڈیا : غلامی کے خوش نما نام340
میڈیا، اخلاقی بحران اور تہذیبی انحطاط: اسلامی تناظر میں 341 عہد جدید میں خواتین کی ذمہ داریاں 343
باب: 14 احمد جاوید صاحب سے خصوصی گفتگو: صفدر رشید، شاہد رشید 351
فلسفہ کے مطالعہ کی اہمیت351علما کی اتھارٹی354
تھیوری کی اہمیت358افراد سازی359
مکتب روایت360نوآبادیاتی مطالعات361مشرق و مغرب364علما اور سیاست369
اقوال 373
Reviews
There are no reviews yet.